Kategori urdu fun

web programming tutorials

محمد طيب

Category urdu fun

bady admi kay pichay orat hoti hai

bady admi kay pichay orat hoti hai

Posted Posted: 27 Sep 2015 Author Author: tayyab
Views Views: 289 Comments Comments: 3 comments
Categories Categories: urdu fun
Tags Tags: baday admi kay pichay orat hoti hai

‎ ...read more

mobile kay posheda raz

mobile kay posheda raz

Posted Posted: 24 Jan 2015 Author Author: tayyab
Views Views: 239 Comments Comments: write comment
Categories Categories: urdu fun
Tags Tags: mobile k raaz,mobile

جسے دیکھو ہمارے ہاں منہ اٹھا کر موبائل کی مخالفت میں بات کرنے لگتا ہے۔ویسےتو سب کے پاس تین تین سمیں Sims ہیں پر جو بولیں گے موبائل کے خلاف۔ ہاتھ میں آئی فون I phone ہو گا جے فون J phone ہو گا اور سنیں تو کہہ رہے ہوں گے کہ یار میں بڑا تنگ ہوں اس موبائل سے ، جان کو آگیا ہے یہ تو۔ بھائی اتنا ہی تنگ ہو تو پھینک دو اور ہمیں بتا دو کہاں پھینک رہے ہو آپکی تو جان چھوٹے ، یا خود ہی ہمیں دے دو ہم آپکی خاطر قربانی دے دیں گے ۔لیکن نہیں ۔

تو آج میں آپکو موبائل کی ایسی خوبیوں کے بارے بتائوں گا جو ہمارے معاشرے میں موبائل کی مہربانی سے رچ بس گئی ہیں اور ان پر کسی کی نظر بھی نہیں پڑتی۔

موبائل فون کتنی بڑی نعمت ہے مجھے تب احساس ہوا جب میں اپنی بہنوں کو خواتین کالج سے لینے جاتا تھااور لڑکیوں کے جھنڈ میں اپنی بہن کو تلاش کرنے پر کتنی شرمندگی ہوتی تھی اور اس سے بڑی شرمندگی اس کو دیکھ کر اشارہ کرتے وقت ہوتی تھی کہ یار باقی لڑکیاں کیا سوچیں گی۔تب ہم نے خود پر نام نہاد شرافت کا غلاف چڑھایا ہوا تھا ورنہ ایسے ہی بہنوں کو لینے کے لیے آنے والے اشاروں اشاروں میں دوسروں کی بہنوں کو لے اڑتے تھے۔
اس مشق سے بچنے کا دوسرا طریقہ تھا کہ آپ کی چوکیدار سے جان پہچان قسم کی یاری ہوجو آپکو دیکھ کر خود ہی آپکی بہن کو بتائے "باجی، بھائی جان لینے آئے کھڑے ہیں"۔یقین مانیے آج بھی حالانکہ میں قطعی متعصب نہیں ہوں اور ہر پیشہ میرے نزدیک محترم ہے لیکن پھر بھی میرے لیے کسی کو بتانا کہ یہ میرے دوست ہیں اور گرلز کالج میں چوکیدار ہیں شرم سے ڈوب مرنے کے برابر ہے کہ سامع نے اور نہیں تو ایک معنی خیز ہنکارہ ضرور بھرنا ہے۔
اب جب میری بہن کالج میں پڑھاتی ہے تو موبائل کی مہربانی سے جا کر مس کال Miss call دی اور بس۔اب یہ الگ بات ہے کہ اکثر کالجوں میں طالبات کے موبائل لانے پر پابندی ہے ۔

لوگ کہتے ہیں انسان کی زندگی سانس چلنے کیوجہ سے ہے جبکہ میں کہتا ہوں پاکستانیوں کی زندگی موبائل چلنے کیوجہ سے ہے۔ آج پاکستان میں موبائل پر پابندی لگ جائے آدھے یہ المناک خبر سن کر ہی کوچ کر جائیں گے جبکہ باقی آدھے موبائل کے ہجر کے صدمے کو سہتے سہتے اللہ میاں کے پاس جا پہنچیں گے۔

سچی پوچھیں تو میں ان لوگوں سے بڑا متاثر ہوں جو کار، موٹر سائیکل، سائیکل چلاتے ہوئے موبائل پر کال call سن لیتے ہیں اور ان لوگوں سے تو باقاعدہ شاگردی اختیار کرنے کی درخواست کا سوچ رہا ہوں جو کار، موٹر سائیکل، سائیکل چلاتے ہوئےموبائل پر پیغام SMS لکھ لیتے ہیں۔لیکن فی الوقت میں ان لوگوں سے صبر کرنا سیکھ رہا ہوں جو یہ دونوں کام نہیں کر سکتے کیونکہ دوران استعمال موبائل سواری کی رفتار ہلکی ہو جاتی ہے اور میں یا کوئی اور جو پیچھے آ رہا ہوتا ہے یا تو ہارن دے دے کر سر میں درد کر دیتا ہے یا پھر اسلامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے صبر کرتا ہے اور اللہ میاں سے دعا کرتا ہے کہ یا اللہ اگلے بندےکا پیغام یا کال جلدی ختم کروا۔ اس طرح اگر ہم ذرا سی کوشش کریں تو موبائل کی مہربانی سے اللہ سے لو لگا سکتے ہیں۔

موبائل کیوجہ سے ٹریفک حادثات میں بھی کمی واقع ہوسکتی ہے۔جو بندہ موبائل دوران ڈرائیونگ driving استعمال کر رہا ہو وہ چاہے کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو اسکی گاڑی کی رفتار آہستہ ہو جاتی ہے اور گاڑی دو لینوں lanes کے درمیان میں آ جاتی ہے۔اور ایسے حالات میں حادثہ تب ہی ہوتا ہےجب کوئی بے صبرا جو موبائل استعمال نہیں کر رہا ہوتا ایسی گاڑی کو عبور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔گویا اگر سب دوران سفر موبائل استعمال کریں تو حادثات پر خاطر خواہ قابو پایا جا سکتا ہے۔

موبائل نے معاشی رتبہ بھی امیر غریب کا ایک برابر کر دیا ہے گویا موبائل معاشرے میں مساوات پھیلا رہا ہے۔ پچھلے دنوں میرے دوست میاں نعیم صاحب نے ایچ ٹی سیHTC کا موبائل لیا جس کی قمیت پاکستانی 60 ہزار روپے تھی۔وہ لیکر اپنی زمینوں پر گئے تو انکے مزارعے نے پوچھا میاں صاحب کتنے کا لیا ہے تو یہ کسر نفسی سے بولے بس 15 ہزار دا سمجھو۔ انہوں نے کہا دکھائیں جی۔ اس کے بعد انہوں نے اسکا بغور معائنہ کرنے کے بعد پوچھا میاں صاحب اس میں ٹی وی TV تو چلا کر دکھائیں۔میاں صاحب بولے کہ اس میں ٹی وی نہیں چلتا۔مزارعے نے جواب دیا میاں صاحب پھر تو آپ لوٹے گئے۔رحیمے کمہار کا بیٹا 2000 کا موبائل لایا ہے جس میں انٹینے والا ٹی وی بھی چلتا ہے۔اور سمیں بھی چار ڈل سکتی ہیں۔

موبائل فون کا ایک بڑا فائدہ لوگوں کو لوگوں سے ملانا ہے۔نئے نئے دوست بناتا ہے۔ ہم خود گواہ ہیں کہ کئی لڑکے جنہوں نے موبائل پر لڑکیوں کو دوست بنایا ہوا ہے جن سے وہ کبھی ملے نہیں اور ان میں سے کچھ تو ایسی ہیں جو لڑکیاں ہیں ہی نہیں۔پاکستانی تو پاکستانی میں ایک بنگالی کا چشم دید گواہ ہوں جو پاکستان بنگلہ دیش سے فون کیا کرتا تھا تاکہ اگلا اس کی بیوی بن جائے جبکہ وہ اگلا اچھا بھلا مرد تھا۔

موبائل فون کیوجہ سے پاکستان کی آبادی میں اضافہ بھی ذرا کم ہوا ہے کیونکہ سارے تو رات کو نائٹ پیکج پر لگے ہوتے ہیں دوسروں کے ساتھ ۔میں تو کہتا ہوں وزارت بہبود آبادی کو نائٹ پیکج پر سبسڈی دینی چاہیے اور ایک کال سینٹر call centerنانا چاہیے کہ اگر کسی کی ہیلو ہائے نہیں تو وہ رات کو کال سینٹر میں موجود بندے بندیوں سے ہیلو ہائے کر کے گزارہ کر لے۔اس کے علاوہ کسی اور طرح پاکستان کی آبادی نہیں رکنی۔شرط لگا لیں۔

موبائل فون کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ آپ دس چیزیں رکھ کر بھول جائیں جتنی آسانی سے موبائل تلاش کیا جاسکتا ہے کچھ اور نہیں۔اپنے نمبر پر کال ملائی اور کان لگائے سن رہے ہیں کہ کہاں رکھا ہے موبائل۔اب تو بندہ اتنا عادی ہوگیا ہے کہ جب کار کی کنجی اور پرس نہیں مل رہا ہوتا تو غیر ارادی طور پر انکو مس کال Miss call دینے لگ جاتا ہے۔

موبائل پر موصول ہونے والے چھوٹے لکھے ہوئے پیغاماتshort text messages جو اب اتنے چھوٹے نہیں رہے آج کل کے زمانے میں سیاسی ٹاک شوز کے علاوہ واحد تفریح کا زریعہ ہیں۔نہ صرف تفریح بلکہ معلومات کا بھی خزانہ ہیں۔ کل ہی میں قمیص دھو رہا تھا ساتھ کھڑے ایک دوست بولےاس کو سفید کرنے کے لیے ہلدی ملا سرف استعمال کرو۔میں نے کہا ہیں خیر تو ہے بھائی جی۔ کہنے لگے یار قسم سے کل ہی میں ایس ایم ایس میں پڑھا ہے۔
بعض اوقات ایسے اقوال آتے ہیں کہ بندہ حیران ہوجاتا ہے۔ جو آپ رکشے کے پیچھے پڑھتے رہے ہیں وہ موبائل کے پیغام میں ہی پتہ لگے گا کہ اصل میں خلیل جبران کا قول ہے۔مرزا غالب کا ایسا شعر پڑھنے کو مل سکتا ہے جو انکے کسی دیوان کے کسی نسخے میں نہیں ہوگا۔باقی فراز اور زبیدہ آپا سے کون واقف نہیں جنہوں نے اس انڈسٹری کو پروان چڑھانے میں دن رات ایک کیا ہے۔ فراز صاحب تو ہلال امتیاز وصول کرچکے ہیں دیکھیں زیبدہ آپا کو کب ایوارڈ ملتا ہے۔

ایسے ہی افراد کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ معاشرے میں برداشت اور رواداری پھیل رہی ہے۔آپ کسی سرکاری دفتر میں کسی کام کسی کیا ہر کام کے نہ ہونے پر جھگڑ رہے ہیں اور سامنے والاخونخوار نگاہوں سے آپکو گھور رہا ہے اس سے پہلے کہ ہاتھا پائی شروع ہوجائے اسکے پاس سے ہلکی سی ٹوں کی آواز آتی ہے وہ جھگڑا چھوڑ کر موبائل پر پیغام پڑھتا ہےاور پڑھ کر مسکراتا ہوا باآواز بلند سب کو پڑھ کر سناتا ہے۔وہ سن کر آپکی بھی نہ چاہتے ہوئے ہنسی نکل جاتی ہے۔لیں جی موبائل نے کتنی آسانی سے سارا معاملہ سدھار دیا۔

موبائل کے اتنے فائدے سن کر بھی اگر آپ موبائل کے معترف نہیں ہوئے تو بھائی جان اٹھائیں اپنا موبائل اور پھینک آئیں گھر سے باہر۔ہے جرات؟(نوٹ:ایک بار پھر گزارش ہے کہ اگر موبائل اچھا ہے اور واقعی پھینکنے کا موڈ بن جائے تو اس خاکسار کو پھینکنے کی جگہ اور وقت وغیرہ ای میل کر دیجیے گا۔ میں نہیں چاہتا کہ بعد میں آپ جا کر دوبارہ اس لغویت(آپکے بقول
کو اٹھا کر گھر لے آئیں۔)

از قلم
محب موبائل

chamcha giri

chamcha giri

Posted Posted: 24 Jan 2015 Author Author: tayyab
Views Views: 209 Comments Comments: write comment
Categories Categories: urdu fun
Tags Tags: chamchagiri

ﭼﻤﭻ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺗﺮﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﻔﻆ ﭼﻤﭽﮧ ﮐﺎ
ﺍُﺭﺩﻭ ﺗﻠﻔﻆ ﮨﮯ

ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺍُﺭﺩﻭ ﮐﮯ ﻟﺸﮑﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ
ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺟﻠﺪ ﮨﯽ ﭼﻤﭽﮧ ﺑﮭﯽ
ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﭼﻤﭽﮧ ﻧﮧ ﺑﻨﺘﺎ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﮐﮭﺎﻧﺎ
ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﭼﻤﭻ ﮨﻮﺗﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭼﻤﭽﮧ ﺑﻦ
ﮐﺮ ﺩﯾﮕﺮ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯾﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﻠﮯ
ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮈﺍﻟﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭼﻤﭽﮧ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ
ﺟﺒﮑﮧ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﭼﻤﭽﮯ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻭﯾﺴﮯ ﺗﻮ ﺑﺮﺗﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻤﭽﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺹ
ﺣﯿﺜﯿﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻓﺮﺍﺋﺾِ ﻣﻨﺼﺒﯽ ﮐﮯ
ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ
ﺷﮯ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯾﺎﮞ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ
ﺭﮐﮭﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﭼﻤﭽﮯ ﺍﻥ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ
ﻃﺮﺡ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺌﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ
ﻗﺴﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺩﻭ
ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﭼﻤﭽﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﮏ ﮐﮭﺎﻧﮯ
ﮐﮯ ﭼﻤﭽﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭼﻤﭽﮯ
ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﭘﮩﻠﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﭼﻤﭽﮯ ﮐﯽ
ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﮑﺎﻧﮯ ﮐﮯ
ﻋﻼﻭﮦ ﺳﺎﻟﻦ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺑﺮﺗﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ
ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﭼﻤﭽﮯ
ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﮐﮯ ﻣﻄﻠﺐ
ﻧﮑﺎﻟﻨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﺎﻡ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ
ﮨﮯ ﺑﺲ ﻓﺮﻕ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﯾﮓ ﻣﯿﮟ
ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﮯ۔
ﭘﮑﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﭼﻤﭽﮧ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻣﺰﮮ ﮐﺎ
ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﭼﻤﭽﮧ ﺗﮭﻮﮌﯼ
ﺑﮩﺖ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎ
ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﯾﮏ ﭼﻤﭽﮧ
ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ
ﻣﻈﻠﻮﻡ ﺷﻮﮨﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺮ ﺳﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﺗﮏ ﮐﺎ
ﺣﺎﻝ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﭼﻤﭽﮯ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ
ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺷﻮﮨﺮ
ﻓﺮﻣﺎﮞ ﺑﺮﺩﺍﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﻋﻠﯽٰ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﺑﻦ ﺳﮑﮯ۔
ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﯽ ﺟﺎﻣﻊ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ
ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮ ﮨﯽ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﻦ
ﺿﺮﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﮯ
ﺑﺎﺿﺎﺑﻄﮧ ﺍﺻﻮﻝ ﻭ ﺿﻮﺍﺑﻂ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﮏ
ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺨﺺ ﺟﻮ ﺫﺍﺗﯽ ﺳﻮﭺ، ﺧﯿﺎﻻﺕ ﺍﻭﺭ
ﺩﻣﺎﻍ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺮﺏ ﺯﺑﺎﻧﯽ ﮐﮯ
ﺫﺭﯾﻌﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺧﻮﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻄﻠﺐ
ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺟﮭﻮﭨﯽ
ﺗﻌﺮﯾﻔﯿﮟ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﮮ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ
ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﻃﻨﺰﯾﮧ
ﺍﺻﻄﻼﺡ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ
ﺍﺳﮯ ﭼﻤﭽﮧ ﮨﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﻤﭽﮧ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ
ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺷﺎﻣﺪﯼ، ﭼﺎﭘﻠﻮﺱ، ﻟَﻠّﻮ ﭘﺘّﻮ ﺍﻭﺭ
ﺣﺎﺷﯿﮧ ﺑﺮﺩﺍﺭ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺗﺼﻮﺭ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ
ﮨﮯ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺨﺺ ﺗﺮﻗﯽ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﮯ
ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮐﻨﮓ
ﻣﯿﮑﺮ ﯾﺎ ﺗﺮﻏﯿﺐ ﮐﺎﺭ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺧﻮﺵ ﻓﮩﻤﯽ
ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ
ﻭﮦ ﭼﻤﭽﮧ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﭼﻤﭽﮯ
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻭﺍﻓﺮ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﮯ
ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﺎﻣﺪ ﭘﺴﻨﺪﯼ
ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻕ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺷﺎﻣﺪ ﭘﺴﻨﺪﯼ
ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ
ﺑﮍﮮ ﮐﺎﻡ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮔﮭﺎﺕ
ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ
ﻣﺴﺘﻔﯿﺪ ﮨﻮﮞ ۔ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﯽ
ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﻃﮯ
ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﺸﺨﺺ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ
ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﺣﺪ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ
ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﻮ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﭼﻤﭽﺎ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺗﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﭘﺮﺍﻧﯽ
ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻗﻮﻣﯽ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺎ ﮐﻠﭽﺮ ﮐﺐ
ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮨﻮﺍ ﯾﮧ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﻃﻠﺐ ﮨﮯ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ
ﻃﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ
ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﭦ ﮐﯽ ﺩﮬﺠﯿﺎﮞ
ﺍُﮌﺍﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ، ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭼﺎﭘﻠﻮﺳﯽ
ﺍﻭﺭ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺑﻨﺘﮯ
ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺣﻖ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﻭﺍﻻﻣﺴﺘﺤﻖ ﺩﺭﺑﺪﺭ
ﮐﯽ ﭨﮭﻮﮐﺮﯾﮟ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﯾﺎ ﺗﻮ ﻧﺸﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ
ﭘﮭﺮ ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﮏِ ﻋﺪﻡ ﮐﻮ
ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺩﺭﺳﮕﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﮞ ﺗﻮ
ﺳﺒﮭﯽ ﻣﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﭘﺮ ﮈﭘﻠﻮﻣﮧ ﺍﻭﺭ ﮈﮔﺮﯼ
ﮐﻮﺭﺳﺰ ﭘﮍﮬﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ
ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺎ ﮐﻮﺭﺱ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﻈﺮﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ
ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﭼﻤﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﯾﮧ ﭼﻤﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺍُﺱ ﻗﺴﻢ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﮯ
ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭼﻤﭽﮯ ﮐﮩﻼﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺁﺝ
ﮐﻞ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭨﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
ﭼﻤﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﺮﻣﺎﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ
ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﺯﺑﺎﻥ ﺯﺩِ ﻋﺎﻡ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﭼﻤﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﮨﺮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﯽ
ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﭼﻤﭽﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﺎ
ﭼﻮﻟﯽ ﺩﺍﻣﻦ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ
ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﮩﺪﮦ ﮨﯽ
ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺑﺎﻗﯽ ﻋﮩﺪﮮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﺳﮯ
ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ
ﮐﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻣﮑﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ
ﺑﮩﺘﯽ ﮔﻨﮕﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮨﻮ۔
ﺳﯿﺎﺳﯽ ﻟﯿﮉﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﻣﻨﮉﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﭼﻤﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﮞ ﻧﻈﺮﯾﺎﺗﯽ
ﺳﯿﺎﺳﺖ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﺍﺏ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﯽ
ﺳﯿﺎﺳﺖ ﻧﮯ ﻟﮯ ﻟﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ
ﻭﻗﺖ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﮨﺮ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﻤﭽﻮﮞ
ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﮐﮭﯿﭗ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ۔
ﺁﺝ ﮐﻞ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﺍﺻﻮﻝ
ﮐﺎﺭﻓﺮﻣﺎ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﺳﭻ ﺑﻮﻟﻮ ﺗﻮ ﭨﯿﻢ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ
ﺟﺒﮑﮧ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ ﮐﺎﻡ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺧﻮﺷﺎﻣﺪ ﭘﺴﻨﺪ ﻟﯿﮉﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﯿﺎﺳﺖ
ﺍﻭﺭ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ
ﺑﻦ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ۔
ﺣﮑﻮﻣﺘﯽ ﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ﯾﺎ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﭘﺎﺭﭨﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮉﺭ
ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﻠﻮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﺍﻧﮩﯽ
ﭼﻤﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﮐﺘﻨﺎ ﻋﺠﯿﺐ
ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺎﻡ ﻧﮑﻠﻮﺍﻧﮯ
ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻟﯿﮉﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻭﭨﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﺗﺎ
ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺟﯿﺘﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮨﯽ ﻭﻭﭨﺮ
ﮐﺎﻡ ﻧﮑﻠﻮﺍﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻟﯿﮉﺭ ﮐﯽ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﺗﺎ
ﮨﮯ۔ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﭼﻤﭽﮧ ﻭﮨﯽ ﮐﮩﻼﺗﺎ
ﮨﮯ ﺟﻮ ﭨﯽ ﻭﯼ، ﺍﺧﺒﺎﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺑﮍﮮ
ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺩﻓﺎﻉ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﯿﺎﺳﯽ
ﻣﺨﺎﻟﻔﯿﻦ ﮐﻮ ﺯﯾﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺎﮨﺮ ﮨﻮ۔ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ
ﺑﻐﯿﺮ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﭨﺮﯾﻨﻨﮓ ﮐﮯ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺨﺖ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﮩﯽ
ﭼﻤﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﭼﻤﭽﮯ ﺑﮭﯽ
ﺑﺪﻧﺎﻡ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺧﻮﺷﺎﻣﺪ ﭘﺴﻨﺪ ﺳﯿﺎﺳﯽ
ﻟﯿﮉﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﺍﺏ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ
ﺗﺮﺑﯿﺘﯽ ﻭﺭﮐﺸﺎﭘﺲ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﻓﻦِ ﻟﯿﮉﺭﯼ ﺍﻭﺭ
ﻓﻦِ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﮐﮯ ﮔُﺮ ﺳﮑﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ
ﺭﻣﻮﺯِ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﮭﺎﺋﯿﮟ ﻭﺭﻧﮧ
ﯾﮩﯽ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﺑﺪﻧﺎﻣﯽ
ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻓﻦِ ﭼﻤﭽﮧ ﮔﯿﺮﯼ
ﺳﮯ ﻧﺎﻭﺍﻗﻔﯿﺖ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺀﭘﺮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﮔﮍﮬﮯ
ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﯾﺸﮧ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔

rishta

rishta

Posted Posted: 24 Jan 2015 Author Author: tayyab
Views Views: 215 Comments Comments: write comment
Categories Categories: urdu fun
Tags Tags: rishta

ضرورت رشتہ

ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﻮ ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ کے ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮕﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ۔ ﺧﺼﻮﺻًﺎ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺭﺷﺘﮧ کیﺍﮨﻤﯿﺖ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮑﺎﺭﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ۔ یہی وجہ ہے کہ ﮨﺮ ﺷﺮﯾﻒ ﺁﺩﻣﯽﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺿﺮﻭﺭﺕ ﺭﺷﺘﮧ ﮐﺎ ﻗﺎﺋﻞﺿﺮﻭﺭ ﮨﻮﺗﺎ ہے ﺑﻠﮑﮧ ﺑﮩﺖﺳﮯ ﺷﺮﻓﺎﺀ ﺗﻮ ﺍﺧﺒﺎﺭ کی
ہیڈﻻﺋﻦ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺘﮯ ہیں ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺭﺷﺘﮧ ﮯﮐﺍ اﺷﺘﮩﺎﺭ ﭘﮩﻠﮯ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﮐﻮ ﮨﻢﺟﺎﻧﺘﮯ ہیں ﺟﻮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧﺍﺧﺒﺎﺭ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﮭﯿﻼ ﮐﺮﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﻮﭨﮯﺷﯿﺸﻮﮞ ﻭﺍﻟﯽ ﻋﯿﻨﮏ ﻧﺎﮎﭘﺮ ﺟﻤﺎﺗﮯ ہیں ﺍﻭﺭ ﺑﮍﯼﺩﻟﺠﻤﻌﯽ کہ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻥﺍﺷﺘﮩﺎﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥﮐﮩﺎ، ﺑﺰﺭﮔﻮ! ﺁﭖ یہﺍﺷﺘﮩﺎﺭﺍﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﺭﻏﺒﺖ کے ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﻮﮞ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﺑﻮﻟﮯ، ﻋﺰﯾﺰﻡ! ﺁﭖ ﻧﮯﺑﮩﺖ ﺍﺣﻤﻘﺎﻧﮧ ﺳﻮﺍﻝﭘﻮﭼﮭﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻋﺮﺽﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ؟ ﮐﮩﻨﮯﻟﮕﮯ، ﺁﭖ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺩﺍﻥﮨﯿﮟ؟ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ۔ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ، ﭘﮭﺮ ﺳﯿﺎﺳﯽﺧﺒﺮﯾﮟﮐﯿﻮﮞ ﭘﮍﮬﺘﮯﮨﯿﮟ؟ ﮨﻢ ﻻﺟﻮﺍﺏ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﺁﭖﮐﮭﻼﮌﯼ ﮨﯿﮟ؟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻧﻔﯽﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﺩﮨﺮﺍﯾﺎ کہ ﭘﮭﺮﮐﮭﯿﻠﻮﮞ کی ﺧﺒﺮﯾﮟﮐﯿﻮﮞ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻥ کی ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻢ ﻧﮯﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎﯾﺎ کہﺍﮔﺮﭼﮧ ﻭﮦ ﮐﮭﻼﮌﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﯿﻠﻮﮞ ﺳﮯﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺿﺮﻭﺭ ﮨﮯ۔ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟﺍﻧﮩﯿﮟ ﺭﺷﺘﮯ کی ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎ ﺍﻣﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺿﺮﻭﺭﺕﺭﺷﺘﮧ کے ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﭘﮍﮬﻨﺎﺍﻥ کی ﺍﮐﯿﮉﻣﮏ ﺿﺮﻭﺭﺕﮨﮯ۔ ﮨﻤﯿﮟ ﺧﺪﺷﮧ یہ ہے کہ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻣﯿﮟﺳﮯﺍﮐﯿﮉﻣﮏ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﮯﮐﮩﯿﮟﺍﻧﮑﺎﺭ ہی ﻧﮧ ﮐﺮﺩﯾﮟ۔ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺭﺷﺘﮧ ﮐ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﺻﺮﻑ ﺑﻌﺾﺑﺰﺭﮔﻮﮞ ہی ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺒﻮﻝﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻥ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭﻭﮞﮐﺎ ﺣﻠﻘﮧ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﺑﮯﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮭﯿﻼ ﮨﻮﺍ ہے ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﺗﻮ ﺑﯿﺸﺘﺮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥﺍﺧﺒﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﮐﺮﯾﻮﮞکے ﺍﺷﺘﮩﺎﺭﺍﺕ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯکے ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﺍ اﺷﺘﮩﺎﺭﺍﺕ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﻮﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩﯾﺘﮯ ہیں ﺍﺱ کی ﻭﺟﮧ یہ ہے کہ ﺻﻮﺑﮯ ﻣﯿﮟﻧﻮﮐﺮﯼ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻠﯽٰ ﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﮐﺰ ﻣﯿﮟ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﻨﺎﮨﻮﺗﯽ ہے ﺟﺴﮑﮯ ﺣﺼﻮﻝکے ﻟﺌﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎﺷﮩﺮﯼ ﮨﻮﻧﺎ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﮩﯿﮟﺑﻠﮑﮧ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﺭﺳﺎﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔ﺍﺱ کے ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺟﻮﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﯾﺎ ﻣﯿﺮﺝ ﺑﯿﻮﺭﻭﻭﺍﻟﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺍ اﺷﺘﮩﺎﺭﺍﺕ ﺍﺧﺒﺎﺭ ﻣﯿﮟﭼﮭﭙﻮﺍﺗﮯ ہیں ﺍﻥ کیﺭﺳﺎﺋﯽ ﮈﺍﮎ کے ﺍﯾﮏ ﻟﻔﺎﻓﮯ ﯾﺎ ﺭﺟﺴﭩﺮﯾﺸﻦ ﻓﯿﺲ کی ﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﺳﮯﻣﻤﮑﻦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ہے ﺍﻭﺭﮨﯿﻨﮓ پھٹکری ﻟﮕﮯ ﺑﻐﯿﺮﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺭﻧﮓ ﺑﮭﯽﭼﻮﮐﮭﺎ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ

ﻋﻄﺎﺀﺍﻟﺤﻖ ﻗﺎﺳﻤﯽ

obama nay dinner par bulaya hai

obama nay dinner par bulaya hai

Posted Posted: 24 Jan 2015 Author Author: tayyab
Views Views: 200 Comments Comments: 3 comments
Categories Categories: urdu fun
Tags Tags: obama

اوباما نے ڈنر پر بُلایا ہے، اگلے ماہ امریکہ جائوں گی : مِیرا

سبحان اللہ۔

اداکارہ مِیرا کا یہ بیان پڑھ کر تو ہمارے کئی سیاستدانوں کا دل جل بھون کر کباب ہو گیا ہو گا کہ جنہیں مدتوں درِ یار پر پڑا رہنے کے باوجود اذنِ بازیابی نہیں ملا اور دوسری طرف مِیرا جیسی خوش نصیب ہیں کہ نجانے ان کی کس ادائے کافرانہ پر ’’ اوباما جی‘‘ فدا ہو گئے کہ انہوں نے مِیرا جی کو ڈنر پر بُلا لیا، جب دعوت ملی تو خود مِیرا بھی کچھ دیر کیلئے مبہوت سی ہو گئی ہوں گی اور گنگنانے لگی ہوں گی …

شائد کسی کی بربادی کا خیال دل میں آیا ہے
اسی لیئے اوبامے نے مجھے کھانے پہ بلایا ہے
:lolx: :lolx:

جب سے یہ خبر آن ائیر ہوئی ہے میرا جن کا فون مسلسل بج رہا ہے، پاکستان کے سارے مشہور لیڈران کرام بشمول نواز شریف اور زرداری صاحب کے میرا جی سے ملنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن وہ ہیں کسی کو گھاس ہی نہیں ڈال رہیں، ایسا کرنا اب تو میرا جی کا حق بھی بنتا ہے کہ جب،

'' سیاں بھئے کوتوال تو ڈر پھر کاہے کا'' :wub:

شیخ رشید سے رابطہ ہوا تو انہوں نے کہا وہ میرا جی سے صرف اس لیئے ملنا چاہتے ہیں کہ انہیں اپنی پارٹی میں شرکت کی دعوت دے سکیں، ان جیسی ''اعلیٰ اخلاق اور کردار'' کی حامل ایک بھی پالی ٹیشن پاکستان میں موجود نہیں اور میرا جی ان سب کے لیئے ایک رول ماڈل کا کردار ادا کرسکتی ہیں،

:laugh:
نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ تو ڈرون حملے رکوانے کے لیئے میرا جی سے بات کرنا چاہ رہے تھے۔ جبکہ عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک شریف اور حیا دار پاکستانی ادا کارہ کا یوں اوباما جیسے لُچے لفنگے سے ملاقات کرنا انتہائی شرمناک فعل ہے۔

مِیرا کا کہنا ہے کہ امریکی سینٹر ڈربن انکی اور انکی والدہ کی سیاسی تربیت کرنے کیلئے پاکستان آئیں B)
B) گے۔ لیجئے ایک تو ’’کریلا وہ بھی نیم چڑھا‘‘ اس طرح تو یہ دونوں سیاست کے تمام خطرناک دائو پیچ سیکھ لیں گی۔ کاش ہماری پسندیدہ اداکارہ اور سابقہ سیاستدان مسرت شاہین بھی اپنی تمام تر توانائیاں مولانا فضل الرحمن صاحب کے خلاف الیکشن لڑنے پر صرف کرنے کی بجائے ان سے ''دوستی'' کرکے کچھ سیاسی قلابازیاں ہی سیکھ جاتیں تو آج اداکارہ سی این جی تو ضرور کہلاتیں۔

1234
 

Blog Title Comment
 

Category

Game cheats ( 5 )
Learn gis ( 5 )
Islamic zone ( 1 )
Adult jokes ( 3 )
Urdu adabi shagufay ( 3 )
Roman urdu jokes ( 1 )
Learn html ( 5 )
Civil engineering ( 2 )
Hacking tutorial ( 3 )
Symbian ( 5 )
Urdu fun ( 17 )
Learn php ( 32 )
General ( 10 )

Archieves

Statistik

Online : 31
Hits : 115/3426496
Hosts : 44/147408

Most commented

Most viewed